محمد جمیل راٹھور۔جدہ
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ۔ اقوام عالم کے لئے ایک اٹیمی دھماکہ
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے وال دفاعی معاہدے نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ اس معاملے میں سعودی عرب اور پاکستان کی حکومتیں قابل تعریف ہیں اس دفاعی معاہدے کے معاملات میں دنیا کی تمام جاسوسی ایجینسیوں کو خبر نہیں ہونے دی۔ پاکستان کے لئے مئی کا مہینہ بڑا مبارک ہے، 28مئی1998ء پاکستان ہر قسم کا دباوٗ ہونے کے باوجود ایٹمی دھماکے کر کے پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بن گیا، اسی طرح 9مئی 2025ء ہندوستان کے حملوں کے بعد ہر قسم کے دباوٗ کو مستررد کر کے صرف چار گھنٹوں میں ہندوستان کو بھرپور جواب دے کر اس کی طاقت کو خاک میں ملا دیا بلکہ دنیا کے سامنے ایک نئے پاکستان کو متعارف کرایا جو اپنے دفاع کے لئے آخری حد تک جا سکتا ہے اس سے قبل ایران سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کے ٹھکانوں پر حملہ کر کے ان دہشت گردوں کو سبق سکھایا تھا۔ قطر میں امریکہ کے فوجی اڈوں کے ہونے کے باوجود اسر ائیل کے حملہ کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان معاملا ت پر اپنی دور اندیشی کے مطابق سعودی عرب کے دفاع کے لئے نئے ساتھیوں کے بارے میں سوچا تو ا ن کے ذہن میں پاکستان کا نام آیا جس نے ایک ایٹیمی طاقت ہوتے ہوئے حال ہی میں اپنے دفاع کے لئے دنیا کے دباوٗ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہندوستان کے حملہ کے جواب میں ہندوہستان بری بحری اور فضائی ہر محاذ پر مکمل شکست دی۔ قطر میں جب دنیا کی نظریں دوہا کنفرنس پر لگی ہوئی تھیں وہیں پہ ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کی قیادت میں ایک میٹنگ میں سعودی عرب نے اپنے دفاع کے معاملات پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سعودی ولی عہدنے پاکستان کے وزیر اعظم سے دفاعی معاہدے کے بارے میں بات کی اور پھر اس معاہدے کے بارے میں تمام تفصیلات وہیں پہ طے ہو گئیں، اس دفاعی معاہدے پر دستخط کے لئے جب پاکستان کے وزیراعظم کو سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی گئی تو وہ سعودی عرب کے دورہ پر ریاض پہنچے اور اس تاریخی معاہدہ پر دونوں برادر ممالک نے دستخط کئے اور پھر اس دفاعی معاہدے پر دستخط ہوتے ہی دنیا میں ہر طرف خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں۔ دو اسلامی مماک کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ گلف ممالک میں بارش کا پہلا قطرہ انشا ء اللہ ثابت ہو گا۔ اب دیکھیں اس اتحاد میں دوسرا قطرہ کون بنتا ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی میں ہونے والی تبدیلیوں کو از سر نو تشکیل دینے، عالمی اتحاد پر اثر انداز ہونے اور دنیا بھر میں اقتصادی اور عسکری حکمت عملیوں کو متاثر کرنے ک صلاحیت رکھتا ہے۔ طویل مدتی اثرات ا انحصار اس بات پر ہو گا کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو کس طرح آگے بڑھاے ہیں اور علاقائیاور عالمی چیلنجوں کا جواب کس طرح دیتے ہیں۔ پاکستان اس وقت مسلم امہ میں اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس دفاعی معاہدے سے سعودی عرب جو کہ تیل کی دولت سے مالامال اور معاشی طور پر ایک مظبوط ملک ہے جبکہ پاکستان ہر قسم کی دفاعی اعتبار سے عسکری اور آئی ٹی ٹیکنولوجی کے حوالے سے ایک قابل اعتبار ملک ہے۔ یہ دفاعی معاہدہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو بڑھا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر دہشت گردی سے متاثرہ خطوں کو مستحکم اور متحد کر سکتا ہے۔ دعا ہے کہ یہ اتحاد قائم اور دائم رہے اور اس میں تمام اسلامی ملک شامل ہو کر ایک آواز بنیں اور مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے میں ایک طاقتور کردار اد ا کر سکیں،
